اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ کے یمن کے لیے سابق خصوصی نمائندے کے سینئر مشیر ایپریل لونگلی آلی اور یمن کے امور میں سابق امریکی خصوصی مشیر کی نائب ایلیسن مائنور نے امریکی جریدے فارن افیئرز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یمن کی حالیہ پیش رفت کو خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دیا اور اسے ایران کے حق میں قرار دیا۔
دونوں مصنفین نے بحری جہازوں اور سعودی عرب کے علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ان پیش رفتوں سے جنگ میں عملاً ایک نیا محاذ کھل گیا ہے، جس کے نتیجے میں لڑائی کا دائرہ وسیع، عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ میں اضافہ اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
آلی اور مائنور نے اعتراف کیا کہ انصاراللہ کے خلاف کارروائی کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس موجود راستے روز بروز مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے سعودی عرب کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاض نے فضائی مدد اور دیگر ضروری تعاون مناسب مقدار میں فراہم نہیں کیا، جس سے انصاراللہ کے خلاف قائم اتحاد اور سعودی عرب کے درمیان کمزور رابطہ کاری ظاہر ہوتی ہے۔
دونوں سابق امریکی عہدیداروں نے کہا کہ انصاراللہ نے ایک بار پھر خطے کے اہم فریق کے طور پر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور نئی اور زیادہ طاقتور فوجی صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انصاراللہ ایران سے براہِ راست اسلحہ حاصل کیے بغیر بھی اپنے اسلحہ خانے کو مضبوط بنانے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکہ کا براہِ راست جنگ میں کودنے سے گریز
آلی اور مائنور نے امریکہ کی جانب سے براہِ راست مداخلت کے امکان کے بارے میں کہا کہ ایسا ہونا یقینی نہیں ہے۔
ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایران کے ساتھ جنگ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مئی 2025 میں انصاراللہ کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امریکی فوجی صلاحیتوں کا ایک حصہ آبنائے ہرمز کی صورت حال میں مصروف ہے اور جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کی صورت میں اسے امریکی عوام کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دونوں مصنفین نے انصاراللہ کے شہر المخا اور جزیرہ بریم پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد واشنگٹن پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے امکان ظاہر کیا کہ ٹرمپ حکومت وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی نئی فوجی کشمکش میں داخل ہونے سے گریز کی کوشش کرے گی۔
اسی سلسلے میں انہوں نے امریکی ویب سائٹ آکسیوس کی اس رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ نے انصاراللہ کے خلاف فضائی حملے کرنے کی سعودی درخواست مسترد کر دی تھی۔ دونوں مصنفین نے اسے واشنگٹن کی جانب سے براہِ راست جنگ میں داخل ہونے سے متعلق ہچکچاہٹ کی علامت قرار دیا۔
انصاراللہ کی پیش قدمی اور مخالف محاذ میں بحران
دونوں امریکی مصنفین نے انصاراللہ مخالف اتحاد میں شامل فریقوں کے درمیان اختلافات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق جنوبی یمن پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی کوشش کے بعد سعودی عرب نے ابوظبی کو اس معاملے سے الگ کر دیا۔
ان کے مطابق یمن سے متحدہ عرب امارات کے انخلا نے ریاض کو اپنی زیرِ کمان فوجی دستوں کو یکجا کرنے کا موقع دیا، تاہم المخا میں انصاراللہ کی تیز رفتار پیش قدمی نے سعودی عرب کے زیرِ کمان فورسز کی طاقت اور اتحاد کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
آلی اور مائنور نے مزید کہا کہ مشترکہ کمان قائم کیے جانے کے باوجود یمن کی حکومت سے وابستہ مختلف گروہوں کے درمیان مؤثر تعاون پیدا نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات کے انخلا اور جنوبی عبوری کونسل کے خاتمے سے انصاراللہ کے مخالف محاذ کا ایک اہم بیرونی حامی بھی اس اتحاد سے الگ ہو گیا ہے۔
دونوں مصنفین کے خیال میں اگر المخا اور اس کے گرد و نواح میں انصاراللہ کی پیش قدمی مستحکم ہو گئی تو یمن کی حکومت سے وابستہ فورسز کو شدید نفسیاتی دھچکے اور اندرونی اختلافات میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جنگ کے پھیلاؤ سے متعلق انتباہ
آلی اور مائنور نے اپنے مضمون کے آخری حصے میں خبردار کیا کہ سعودی عرب انصاراللہ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کے لیے امریکہ اور مکہ معاہدے کے شراکت داروں سمیت عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، تاہم ایسی کارروائی انصاراللہ مخالف اتحاد کی بنیادی کمزوریوں کو لازماً دور نہیں کر سکے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ طویل اور وسیع جنگ بالآخر انصاراللہ اور ایران کی اس حکمت عملی کے حق میں جا سکتی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کے اہم تزویراتی مقامات اور مواصلاتی گزرگاہوں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔
دونوں امریکی مصنفین نے آخر میں خبردار کیا کہ یمن میں جنگ کا جاری رہنا ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی امریکی کوششوں کو بھی مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ